A Thought Provoking Aticle – courtesy BBC Urdu

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں۔

 جمعہ کی دوپہر کو بیک وقت لاہور کے علاقوں ماڈل ٹاون اور گڑھی شاہو کے حملوں میں سو کے قریب احمدی ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زاید زخمی ہوۓ. خبر تمام اخبارات کی شہ سرخی بنی تو حکمرانوں نے بھی مذمتی بیانات داغ کر اپنا فرض نبھایا. ایک قیامت خیز نظارہ تھا جب قانونی طور پر ثابت شدہ کافر احمدی نماز جمعہ ادا کر رہے تھے اور ثابت شدہ قانونی مسلمان ہینڈ گرنیڈ بموں اور ہتھیاروں سے مسلح دھماکوں کے ساتھ ” قادیانیت مردہ باد” کے نعرے لگاتے ہوۓ ان پرگولیاں برسا رہے تھے ، میں حیران تھی کہ . …..”دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں ” نہتے احمدی خود کو بچانے کے لئے مسلح حملہ اوروں سے مسلسل دست و پا تھے . میڈیا کے لئے یہ سنسنی خیز خبرموضوع سخن بنی جس پر سیاسی و سماجی مباحثے بھی کئے گئے .اور بلا آخر اس سر عام قتل غارت گری کو دہشت گردی کی ایک واردات جس کا ذمہ دار طالبان کی کالعدم تنظیم کو قرار دے دیا گیا .

مگر میں یہ کیسے مان لوں کہ یہ فقط ایک دہشت گردی کی واردات تھی کہ جب میری آنکھوں نے چک سکندر اور ننکانہ صاحب میں سینکڑوں احمدی خاندانوں کو زندہ جلتے دیکھا ہو . میں یہ کیسے مان جاؤں کہ اس کی ذمدار فقط کالعدم تنظیم ہے کہ جب مرے کانوں نے سات اکتوبر دوہزار پانچ کو ماہ صیام کی ایک شام مندی بہاؤ الدین میں احمدی نمازیوں کی چیخ و پکار اوران پر ہوتی گولیوں کی بوچھاڑ سنی ہو . میں یہ کیسے قبول کر لوں کہ اس کا مقصد فقط خوف ہراس پھیلانا تھا جب میں نے مظفر آباد اور ایبٹ آباد میں جانوں سے گئے ااحمدی خاندانوں کے عزیز اقارب کے آنسو پونچھے ہوں ، اور جب میں نے قوم کے مسیحاؤں کے روپ میں احمدی ڈاکٹرز کی بیہیمانہ قتل و غارت گری پراپنی قوم کی بد بختی پر خوں کے آنسو بہائے ہوں .اگر آج احمدیوں پر یہ حملہ دہشت گردی ہے تو پھر ١٩٨٩ میں چک سکندر اور ننکانہ صاحب میں سینکڑوں احمدی خاندانوں کی جائے املاک لوٹ کر ان کو زندہ جلا دینا کیا تھا ؟ اگر آج اس حملے کی ذمدار کالعدم تنظیم ہی ہے تو پھر مندی بہاؤ الدین میں برپا قیامت کا ذمہ دار کون تھا ؟ اگر آج ان حملہ اوروں کا مقصد فقط دہشت پھیلانا ہے تو پھر ١٩٧٤ سے اب تک احمدیوں پر کئے جانے والے مظالم اور بد سلوکیوں کے مقاصد کیا تھے ؟

پاکستان میں جماعت احمدیہ ١٩٧٤ میں پارلیمان کے غیر مسلم قرار دینے کے بعد سے جس وحشیانہ سلوک سے دو چار ہے ہاں وہ دہشت گردی ضرور ہے مگر طالبانی دہشت گردی ہرگز نہیں بلکہ حکمرانی اور قانونی دہشتگردی ہے . ہاں یہ دھہشتگردانہ واردات ضرورہے مگر اس کی ذمہ دار کالعدم تنظیم نہیں بلکہ اس کی ذمہ دار بھٹو اور اس کے بعد آنے والی ہر حکومت ہے . ہاں یہ سر ا سر ظلم ضرور ہے مگر یہاں پر ظالم طالبان نہیں ہمارا معاشرہ اور ہمارا قانون ہے ، ہاں یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ضرور ہے مگر اس کی ذمہ دار عوام کی محافظ پولیس ہے ، ہاں یہ فقط تعصب ہی تو ہے مگر اس کی قصور وار ہماری زرد صحافت بھی ہے .اور سب سے بڑھ کر ہماری قوم جو اس قوت سماعت سے محروم ہے جو مظلوم کی داستان سن سکے ، جو اس قوت بصارت سے محروم ہے جو مجبور ہم وطنوں کی بے بسی دیکھ سکے ، اس دل سے محروم ہے جو کسی کا درد محسوس کر سکے. ایک ریاست کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ کسی شہری کے ایمان کا فیصلہ آج میں حکمران وقت ، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے یہ سوال پوچھنا چاہتی ہوں کہ آخر اس بے حسی، اور غیر ذمہ داری کی کوئی انتہا بھی ہے ؟

 پتھر پہ لکیر ہے یہ تقدیر مٹا دیکھو گر ہمت ہے — یا ظلم مٹے گا دھرتی سے یا دھرتی خود مٹ جائے گی

 عفاف اظہر

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s


%d bloggers like this: