A Poem on Khilafat Jubilee

واخرین منھم لما یلحقو بھم۔

اک  عہدِ  رفتہ   کا  تسلسل    ہوا
روح کا جسم سے رشتہ بر محل ہوا

علم کا سمندر اتھاہ  گہرائیوں کا
عشق میں مقبول، نور کا جل ہوا

ہوا مُوجب اسیروں کی رستگاری کا
لگایا  نعرہء  حق ،  دور  باطل  ہوا

جلوہ نمائی اس کی قدرت کی ہم نے دیکھی
ایوانِ   صاحبانِ  ‘ صفا’   بے  عدل    ہوا

پھر اٹھا  خاک  کا  بگولا  پر کیا  ٹکراتا؟
طاہر  کی   نظر  سے   شکار  اجل  ہوا

وقت مشکل کا جب بھی پڑا میرے گلشن پر
اعجاز محمد سے اک اور مسیحی بطل ہوا

اک  زمانہ  تھا  منتظر  آنے  والے کا
اُن کے لیے یہ تب ہوا نہ ہی اب ‘ ہوا’۔

Advertisements
Explore posts in the same categories: Islam

One Comment on “A Poem on Khilafat Jubilee”

  1. abukrishan Says:

    ماشاء اللہ اچھی آمد ہے۔ میں اس کو آورد ہر گز ہرگز نہیں کہوں گا۔ مجھے خطرہ ہے کہ دوسری دنیا میں رہنے والے آمد اور آورد کا فرق شاید نہ جانتے ہوں گے۔ مگر مجھے اس سے کیا جس شاعر کی خدمت میں میں یہ چند سطریں لکھ رہا ہوں وہ اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ ویسے میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ وقت کے ساتھ ساتھ تمھارا کلام زیادہ بلند اور گہرا ہوتا چلا جارہا ہے۔ دل کے بخارات رفعتوں سےگہرے پانیوں پر پانی برساتے ہیں سطحی نظر والے سمجھتے ہیں کہ گہرے پانی پرسکون ہوتے ہیں۔ کبھی اتر کر دیکھیں تو دیکھیں کہ طوفان نے آفت مچا رکھی ہے۔ اور تمھارے اس کلام کچھ ایسی ہی بات ہے ۔ تم نے ایک ایک شعر میں جماعت کی سو سال کی تاریخ کو سمو دیا ہے۔ اللھم زد فزد


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s


%d bloggers like this: